11 اشعار

جبین شوق اتنی تو شریک کار ہو جائے

Jabeen-e-shauq itni to shareek-e-kaar ho jaae

جبین شوق اتنی تو شریک کار ہو جائے

«جبین شوق اتنی تو شریک کار ہو جائے» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی» میں 20 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 43 سیکنڈ ہے۔

جبین شوق اتنی تو شریک کار ہو جائےجہاں سجدہ کروں میں آستان یار ہو جائے

صبا برہم اگر زلف دراز یار ہو جائےقیامت کروٹیں لیتی ہوئی بیدار ہو جائے

بنا دو جس کو تم مجبور وہ مجبور بن جائےجسے مختار تم کہہ دو وہی مختار ہو جائے

تجھے معلوم کیا اے خواب ہستی دیکھنے والےوہی ہستی ہے ہستی جو نثار یار ہو جائے

جو ہو جائے یقیں آئیں گے وہ رسم عیادت کونہ ہو بیمار بھی کوئی تو وہ بیمار ہو جائے

گزر جائے حدود معرفت سے طالب جلوہجو بے پردہ کسی ساعت جمال یار ہو جائے

حکومت ہے جنوں پر ہست منشا تیرے وحشی کیابھی دیوانہ بن جائے ابھی ہشیار ہو جائے

فقط اتنی اطاعت چاہتی ہے رحمت یاریکہ انساں کو گنہ کا اپنے بس اقرار ہو جائے

اسی کو کامیاب دید کہتے ہیں نظر والےوہ عاشق جو ہلاک حسرت دیدار ہو جائے

نہ ہوگی ختم پھر بھی کشمکش شیخ و برہمن کیاگر ہم رشتۂ تسبیح بھی زنار ہو جائے

سمجھ لینا وہیں عمر رواں کی آخری منزلجہاں پر ختم افقرؔ جستجوئے یار ہو جائے

— افقر موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں