11 اشعار

اے درد دل میں رہ کر دل ہی کا راز ہو جا

Ay dard-e-dil mein rah kar dil hi ka raaz ho ja

اے درد دل میں رہ کر دل ہی کا راز ہو جا

«اے درد دل میں رہ کر دل ہی کا راز ہو جا» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 34 سیکنڈ ہے۔

اے درد دل میں رہ کر دل ہی کا راز ہو جابیمار غم کا اپنے خود چارہ ساز ہو جا

اے جذب دل سراپا سوز و گداز ہو جادنیائے رنگ و بو میں دنیائے راز ہو جا

ہاں ہاں بڑھا دے مدت پابندیٔ جنوں کیزلف دراز جاناں عمر دراز ہو جا

ہر ذرۂ حقیقت یہ دے رہا صدا ہےپہلے رہ طلب میں خاک مجاز ہو جا

سر نامۂ عدم ہے عنوان زندگانیاے امتیاز ہستی تفسیر راز ہو جا

اے بے خبر گزر جا ذوق نظر کی حد سےجلووں میں اس کے گھر کر جلوہ طراز ہو جا

اے بندۂ طریقت آداب زندگی سنمحو سجود ہو کر جان نماز ہو جا

خرقہ شراب سے تر دستار مے سے رنگیںاے شیخ پاک دامن یوں پاکباز ہو جا

تو راز داں ہے دل کا دل راز دار الفتیا سرفراز کر دے یا سرفراز ہو جا

تو رونق حرم ہے یا بت کدہ کی زینتخود امتیاز بن کر اک امتیاز ہو جا

جانا ہے جب مقرر دار فنا سے افقرؔراہ وفا میں مٹ کر خاک حجاز ہو جا

— افقر موہانی