9 اشعار

یہ کس کے آستانے کی زمیں معلوم ہوتی ہے

Yeh kis ke aastane ki zamin maloom hoti hai

یہ کس کے آستانے کی زمیں معلوم ہوتی ہے

«یہ کس کے آستانے کی زمیں معلوم ہوتی ہے» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 29 سیکنڈ ہے۔

یہ کس کے آستانے کی زمیں معلوم ہوتی ہےکہ جنبش میں مری لوح جبیں معلوم ہوتی ہے

دو رنگی دیر و کعبہ کی نہیں معلوم ہوتی ہےحقیقت آشنا میری جبیں معلوم ہوتی ہے

میں چاہوں بھی تو سنگ آستاں سے اٹھ نہیں سکتاکہ جزو آستاں اپنی جبیں معلوم ہوتی ہے

دواں ہے کشتیٔ عمر رواں یوں بحر ہستی میںکہیں ابھری کہیں ڈوبی کہیں معلوم ہوتی ہے

یہ اک بے ربط سی جامہ دری اور اپنے ہی ہاتھوںجہاں پہلے تھا دامن آستیں معلوم ہوتی ہے

یہ جلوہ زار دنیا بھی عجب آئینہ خانہ ہےکہ ہر تصویر حیرت آفریں معلوم ہوتی ہے

تجلی حسن جاناں کی نہیں موقوف ایمن پرجہاں محسوس کرتا ہوں وہیں معلوم ہوتی ہے

نظر آتے ہیں جلوے وہ جہاں کے ان کی چوکھٹ پرخدائی اب مرے زیر نگیں معلوم ہوتی ہے

اتر آیا ہے نقشہ آستان یار کا افقرؔجبین شوق اب میری جبیں معلوم ہوتی ہے

— افقر موہانی