11 اشعار

اب کیا بتاؤں درد کہاں تھا کہاں نہ تھا

Ab kya bataun dard kahan tha kahan na tha

اب کیا بتاؤں درد کہاں تھا کہاں نہ تھا

«اب کیا بتاؤں درد کہاں تھا کہاں نہ تھا» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی» میں 20 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 28 سیکنڈ ہے۔

اب کیا بتاؤں درد کہاں تھا کہاں نہ تھاپوچھی وہ بات یار نے جس کا گماں نہ تھا

اس سے زیادہ حاصل عمر رواں نہ تھاتیرا نشاں جو پایا تو اپنا نشاں نہ تھا

دنیا ہو یا ہجوم قیامت ہو یا کہ حشرتیرے خراب عشق کا چرچا کہاں نہ تھا

دیکھی قفس سے جا کے چمن میں جفائے چرخسب کے تو آشیاں تھے مرا آشیاں نہ تھا

آتا نظر تھا دور سے نزدیک کارواںنزدیک ہم ہوئے تو کہیں کارواں نہ تھا

آیا نظر نہ پھر بھی جہاں میں کسی کو توہر چند تیرے جلوے سے خالی جہاں نہ تھا

کیسی بہار کس کا چمن فصل گل تھی کیادنیا نظر میں ہیچ تھی جب آشیاں نہ تھا

بے پردہ اس طرح کبھی حاصل تھا لطف دیدہستی کا بھی حجاب مرے درمیاں نہ تھا

بجلی پہ کی نظر تو فلک پر تھی جا چکیدیکھا جو آشیاں کی طرف آشیاں نہ تھا

ہر ذرۂ جہاں پہ تھا آباد اک جہاںہستی کا کوئی ذرہ بھی تو رائیگاں نہ تھا

افقرؔ مآل ہستیٔ فانی تھا بس یہیکل تک تھا نام آج لحد کا نشاں نہ تھا

— افقر موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں