13 اشعار

بس اتنی رہ گئی اہل وفا کی داستاں باقی

Bas itni reh gayi ahl-e-wafa ki dastaan baqi

بس اتنی رہ گئی اہل وفا کی داستاں باقی

«بس اتنی رہ گئی اہل وفا کی داستاں باقی» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 42 سیکنڈ ہے۔

بس اتنی رہ گئی اہل وفا کی داستاں باقیسر محشر بھی ہے ذکر جبین و آستاں باقی

رہے گا آشیاں بھی گر رہے گا گلستاں باقییہ ضد اب تو رہے گی عمر بھر اے باغباں باقی

میں ہر نقش قدم پر جھوم کے سجدے میں گرتا ہوںرہے کیوں احترام کوچۂ پیر مغاں باقی

مٹا سکتے نہیں حشر و قیامت بھی یہ دو چیزیںمرے سجدے رہیں گے اور ان کا آستاں باقی

نظر جلووں میں گم ہے اور جلوے گم نگاہوں میںنہیں اب کوئی پردہ میرے ان کے درمیاں باقی

نہ پھونک ان کو خدا کے واسطے اے برق رہنے دےانہیں دو چار تنکوں سے ہے نام آشیاں باقی

دیا ساقی نے اپنے سر سے صدقہ کر کے پیمانہنہ جب کوئی رہا جام شراب ارغواں باقی

ابھی ہونے کو ہے جن سے تقاضائے اجل پیہمکچھ ایسے دن بھی ہیں منجملہ عمر رواں باقی

دم آخر وہ آنسو بھی گرا مژگاں سے بستر پرجو اپنے درد دل کا رہ گیا تھا رازداں باقی

نہ مجھ سا بھی کوئی ہو خانماں برباد دنیا میںکہ مر جانے پہ بھی ہیں سیکڑوں بربادیاں باقی

دم رخصت بس اتنی آرزو ہے اے چمن والوہمارے بعد بھی رکھنا خیال آشیاں باقی

جبین شوق میں ایسا بھی اک بیتاب سجدہ ہےکہ ہے لغزش سے جس کی آبروئے آستاں باقی

بہار لالہ و گل ہو کہ ہو رنگ شفق افقرؔرہیں گی حشر تک خون وفا کی سرخیاں باقی

— افقر موہانی