5 اشعار

شیشہ میں ہے شراب تو شیشہ شراب میں

Sheesha mein hai sharab to sheesha sharab mein

شیشہ میں ہے شراب تو شیشہ شراب میں

«شیشہ میں ہے شراب تو شیشہ شراب میں» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی» میں 20 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

شیشہ میں ہے شراب تو شیشہ شراب میںیعنی ہے آفتاب حد آفتاب میں

سرزد ہوئے گناہ جو عہد شباب میںمالک مرے انہیں تو نہ رکھنا حساب میں

عالم یہی رہا تو نگاہوں کا ذکر کیانیت بھی ڈوب جائے گی جام شراب میں

اے برق کیا ہمیں کو مٹانا چمن میں تھاتھا اور آشیاں نہ کوئی انتخاب میں

افقرؔ یہ سب ہیں ان کے تبسم کی شوخیاںرنگینیاں جو بن گئیں موج شراب میں

— افقر موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں