10 اشعار

کچھ عجب یہ بارگاہ عشق کا دستور ہے

Kuchh ajab yeh bargah-e-ishq ka dastoor hai

کچھ عجب یہ بارگاہ عشق کا دستور ہے

«کچھ عجب یہ بارگاہ عشق کا دستور ہے» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی» میں 20 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 18 سیکنڈ ہے۔

کچھ عجب یہ بارگاہ عشق کا دستور ہےجتنا جو مختار ہے اتنا ہی وہ مجبور ہے

موت پر قدرت ہے جینے کا نہیں مقدور ہےتو ہی درد دل بتا اب کیا تجھے منظور ہے

ہو کے مختار اختیار خیر و شر سے دور ہےاتنی قدرت پر بھی انساں کس قدر مجبور ہے

کتنا پر حیرت ہے منظر آستان یار کادور سے نزدیک تر نزدیک سے پھر دور ہے

لذت ذوق اسیری ہے اسیری کا سببورنہ چاہیں تو قفس سے آشیاں کیا دور ہے

گم ہوا ہوں شوق منزل میں کچھ اس انداز سےیہ نہیں معلوم منزل مجھ سے کتنی دور ہے

وہ تصور سے نہ جائیں جان جائے یار ہےمجھ کو یہ بھی بے خودیٔ عشق میں منظور ہے

ایک وہ ہیں جن کی طوفاں میں ہے ساحل پر نظرڈوبنے والے کو ساحل سے بھی ساحل دور ہے

کس سے ہو افقرؔ امید چارہ سازی دہر میںجو بھی اس دنیا میں ہے مجبور ہے مجبور ہے

کچھ عجب یہ بارگاہ عشق کا دستور ہےجتنا جو مختار ہے اتنا ہی وہ مجبور ہے

— افقر موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں