8 اشعار

شراب پی کے بھی مست شراب ہو نہ سکا

Sharab pee ke bhi mast-e-sharab ho na saka

شراب پی کے بھی مست شراب ہو نہ سکا

«شراب پی کے بھی مست شراب ہو نہ سکا» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی» میں 20 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

شراب پی کے بھی مست شراب ہو نہ سکاترا خراب محبت خراب ہو نہ سکا

اسی پہ ختم ہیں ناکامیاں زمانہ کیتری جناب میں جو کامیاب ہو نہ سکا

تری عطا کے تصدق ترے کرم کے نثارگناہ گار تھا لیکن عذاب ہو نہ سکا

وفور حسن کی وہ شوخیاں معاذ اللہشباب تابع عہد شباب ہو نہ سکا

خراب عشق ترا ہو کے ساری دنیا میںکسی کا بھی دل خانہ خراب ہو نہ سکا

اٹھی نہ عرض تمنا پہ خشمگیں ہو کرتری نگاہ کا مجھ پر عتاب ہو نہ سکا

ہزار رنگ تھے لیکن تھا ایک ہی جلوہکمال حسن کا تیرے جواب ہو نہ سکا

دلیل پستی اوج فلک ہے یہ افقرؔکہ خاک بوس در بو تراب ہو نہ سکا

— افقر موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں