8 اشعار

گری وہ چرخ سے بجلی جلا وہ آشیاں اپنا

Giri woh charakh se bijli jala woh aashiyan apna

گری وہ چرخ سے بجلی جلا وہ آشیاں اپنا

«گری وہ چرخ سے بجلی جلا وہ آشیاں اپنا» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

گری وہ چرخ سے بجلی جلا وہ آشیاں اپنامٹا وہ دیکھتے ہی دیکھتے نام و نشاں اپنا

میں سجدہ اس کشاکش میں کبھی کر ہی نہیں سکتاادھر دیر و حرم اپنے ادھر وہ آستاں اپنا

خدا شرمائے ایسے ارتباط اہل دنیا کوکہ جو ہے رازداں ان کا وہی ہے رازداں اپنا

کوئی کیوں طور پر خندہ زن ذوق نظر ہوتاکلیم اپنی جگہ کرنا تھا پہلے امتحاں اپنا

مجھے کیا وہ غم دنیا ہو یا افتاد محشر ہونہ کوئی ہے یہاں اپنا نہ کوئی ہے وہاں اپنا

یہ منظر سوختہ جانوں کے ہے پیش نظر ہر دمکہ جیسے سامنے وہ جل رہا ہے آشیاں اپنا

دم رخصت بس اتنی آرزو ہے اے چمن والوہمارے آشیانے کو سمجھنا آشیاں اپنا

کوئی حد بھی ہے اس ذوق تن آسانی کی اے افقرؔاجل کا خواب اب تو ہو گیا خواب گراں اپنا

— افقر موہانی