8 اشعار

محبت میں خرد کی رہبری دیکھی نہیں جاتی

Mahabbat mein khirad ki rahbari dekhi nahin jati

محبت میں خرد کی رہبری دیکھی نہیں جاتی

«محبت میں خرد کی رہبری دیکھی نہیں جاتی» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی» میں 20 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

محبت میں خرد کی رہبری دیکھی نہیں جاتییہ توہین مذاق عاشقی دیکھی نہیں جاتی

ہر اک تصویر کی جلوہ‌ گری دیکھی نہیں جاتیوہ صورت دیکھ کر پھر دوسری دیکھی نہیں جاتی

بہار اچھی طرح گلشن میں آئی بھی نہیں لیکناسیروں سے نظر صیاد کی دیکھی نہیں جاتی

دل مضطر مرا پروردۂ آغوش طوفاں ہےخوشی یہ موج ساحل پر کبھی دیکھی نہیں جاتی

مری ہستی کا پردہ بھی مری نظروں سے اٹھ جائےکہ وقت دید جاناں یہ دوئی دیکھی نہیں جاتی

اسے پیتے ہیں آنکھیں بند کرکے بادہ کش زاہدنگاہوں سے یہ شیشہ کی پری دیکھی نہیں جاتی

نگاہ شوق کیا دیکھے گی جلوہ حسن کامل کاجب ادنیٰ سی تجلی طور کی دیکھی نہیں جاتی

نظر جتنی تھی صرف دید جاناں ہو گئی افقرؔکوئی شے اب جہان حسن کی دیکھی نہیں جاتی

— افقر موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں