13 اشعار

حرم کہتا ہے کچھ دیر بتاں کچھ اور کہتا ہے

Haram kehta hai kuchh der butaan kuchh aur kehta hai

حرم کہتا ہے کچھ دیر بتاں کچھ اور کہتا ہے

«حرم کہتا ہے کچھ دیر بتاں کچھ اور کہتا ہے» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 31 سیکنڈ ہے۔

حرم کہتا ہے کچھ دیر بتاں کچھ اور کہتا ہےطریق منزل وارفتگاں کچھ اور کہتا ہے

ہر اک سے ان کا وحشی داستاں کچھ اور کہتا ہےنہیں ہوتا جہاں کوئی وہاں کچھ اور کہتا ہے

امیر کارواں کیا ہے خدائے کارواں ہم تھےمگر اب تو غبار کارواں کچھ اور کہتا ہے

ہر اک جلوہ میں اک پردہ ہر اک پردہ میں اک جلوہبہ ہر صورت سحاب درمیاں کچھ اور کہتا ہے

جناب شیخ کے لب پر خدا کا نام آتا ہےصبوحی کش مگر وقت اذاں کچھ اور کہتا ہے

یہ مانا جنت حسن نظر تھی زندگی اپنیمگر خمیازۂ عمر رواں کچھ اور کہتا ہے

مری ہستی کا ہر ذرہ ہے گنجائش طلب اب تککہ پا کر وسعت کون و مکاں کچھ اور کہتا ہے

قفس میں لاکھ سامان طرب صیاد ہے لیکنمرا نالہ بہ نام آشیاں کچھ اور کہتا ہے

نہیں ہوتی ہے حجت ختم تنہا آب و دانہ پرارے صیاد اسیر بے زباں کچھ اور کہتا ہے

اتاری جا رہی ہیں قیدیوں کی بیڑیاں لیکننشان حلقۂ طوق گراں کچھ اور کہتا ہے

عجب الجھن میں ڈالا تو نے او منہ پھیرنے والےکہ دل کچھ اور کہتا ہے گماں کچھ اور کہتا ہے

مرا ہر ایک سجدہ منتظر ہے قول فیصل کاجبیں کچھ کہہ رہی ہے آستاں کچھ اور کہتا ہے

کلام میرؔ و مرزاؔ قابل صد ناز ہے افقرؔمگر مومنؔ کا انداز بیاں کچھ اور کہتا ہے

— افقر موہانی