7 اشعار

خدائی مجھ کو مل جاتی خدائے دو جہاں ملتا

Khudai mujh ko mil jaati Khudaya-e-do jahaan milta

خدائی مجھ کو مل جاتی خدائے دو جہاں ملتا

«خدائی مجھ کو مل جاتی خدائے دو جہاں ملتا» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی» میں 20 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

خدائی مجھ کو مل جاتی خدائے دو جہاں ملتاجو تم ملتے تو گویا حاصل کون و مکاں ملتا

غلام ساقیٔ کوثر ہوں مے کی کیا کمی مجھ کونہ ملتا گر یہاں ساغر مرا حصہ وہاں ملتا

اسے کب کوئی پا سکتا اسے کیا دیکھتا کوئینظر سے دور دل کی وسعتوں میں جو نہاں ملتا

انہیں کب نیند آئی سنتے سنتے دل کا افسانہیہی تھا وقت جب ان کو بھی لطف داستاں ملتا

جلاتی ایک بجلی کیوں کر اتنے آشیانوں کوچمن کے پتے پتے پر ہمارا آشیاں ملتا

ہمارے سجدۂ بے آستاں کا یہ کرشمہ تھانہ ہوتا آستاں جس جا وہاں بھی آستاں ملتا

وہاں دو چار سجدے تم بھی کر لو جا کے اے افقرؔپئے سجدہ زمیں سے جس جگہ ہے آسماں ملتا

— افقر موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں