9 اشعار

جوانی میں نظر کو تابع احکام ہونے دو

Jawaani mein nazar ko tabe ahkaam hone do

جوانی میں نظر کو تابع احکام ہونے دو

«جوانی میں نظر کو تابع احکام ہونے دو» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 29 سیکنڈ ہے۔

جوانی میں نظر کو تابع احکام ہونے دویہ اٹھ جائے جدھر اس سمت قتل عام ہونے دو

اداؤں کو شریک گردش ایام ہونے دوجوانی میں کسی کی حشر کا ہنگام ہونے دو

نظر کے ساتھ ہو جائے گا قائم دور مے خانہذرا گردش میں چشم ساقیٔ گلفام ہونے دو

نظر آ جائے گا دنیا کو برق و طور کا عالمدم دیدار بے خود مجھ کو زیر بام ہونے دو

نہ ہم دل کو چھپائیں اور نہ تم پھیرو نگاہوں کوہم اپنا کام ہونے دیں تم اپنا کام ہونے دو

خدا معلوم لے جائے کہاں ذوق طلب مجھ کوابھی تو بے خودیٔ شوق کا انجام ہونے دو

کمی ہے مرنے والوں کی نہ قاتل کی زمانہ میںکسی کی ہر ادا کہتی ہے قتل عام ہونے دو

خدا والو نہ روکو مجھ کو میرے ذوق عصیاں سےمجھے روز قیامت مورد الزام ہونے دو

ابھی کچھ گردشیں باقی ہیں جام زیست کی افقرؔابھی کچھ دیر شغل بادۂ گلفام ہونے دو

— افقر موہانی