10 اشعار

صبا کو فکر ہے کعبہ نیا بنانے کی

Saba ko fikr hai Kaaba naya banane ki

صبا کو فکر ہے کعبہ نیا بنانے کی

«صبا کو فکر ہے کعبہ نیا بنانے کی» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی» میں 20 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

صبا کو فکر ہے کعبہ نیا بنانے کیکہ جمع کرتی ہے خاک ان کے آستانہ کی

فلک کو ضد ہے نشیمن مرا مٹانے کیچمن میں دھن ہے مجھے آشیاں بنانے کی

زمیں پہ لالہ و گل سے ہے ابتدائے بیاںشفق ہے آخری سرخی مرے فسانے کی

اسی سے نکلے گا تعمیر کا بھی اک پہلوضرور چاہیے تخریب آشیانے کی

ہزار جلوۂ بے رنگ صد متاع نظرنہیں ہے حسن کو حاجت نقاب اٹھانے کی

کھلا یہ راز کہ تھیں کس قدر فریب نظراجل کے بھیس میں رنگینیاں زمانے کی

اسیرو کر لو نشیمن کا آخری ماتمقفس میں آئی ہے خاک اڑ کے آشیانے کی

سنی تھی وسعت دنیا کی داستاں ہم نےمگر ملی نہ جگہ آشیاں بنانے کی

یہ کہہ کے پلٹے ہیں دنیا کے دیکھنے والےکہ یہ جگہ نہیں واللہ دل لگانے کی

بنا بہار میں اجڑا خزاں میں اے افقرؔحقیقت اتنی ہی بس اپنے آشیانے کی

— افقر موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں