9 اشعار

موت کیا ختم حیات غم دنیا کرنا

Maut kya khatm-e-hayat-e-gham-e-duniya karna

موت کیا ختم حیات غم دنیا کرنا

«موت کیا ختم حیات غم دنیا کرنا» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

موت کیا ختم حیات غم دنیا کرناحاصل زیست ہے مرنے کی تمنا کرنا

قصۂ طور کا ہے مجھ کو اعادہ کرناایک بار اور کرم برق تجلیٰ کرنا

جب کہ آتا ہے نظر تیرا ہی جلوہ ہر سوپھر تو بیکار نگاہوں سے ہے پردہ کرنا

آبرو کھوئی سر بزم گرا کر آنسوچشم خوں بار کو لازم نہ تھا رسوا کرنا

سیکھ لے ہم سے جبیں سائی کعبہ زاہدہم کو آتا ہے در یار پہ سجدہ کرنا

تھی کبھی دل میں تمناؤں کی دنیا لیکناب تو آتا ہی نہیں دل کو تمنا کرنا

کھیلتا جن کے سفینہ سے ہے طوفاں ان کوناروا ہے ہوس ساحل دریا کرنا

اک نظر دیکھ لو پہلے مری حالت آ کرپھر سمجھنے کو پڑی عمر ہے سمجھا کرنا

تم پئے مشق ستم تیغ اٹھاؤ تو سہیشوق سے پھر سر افقرؔ کا نظارہ کرنا

— افقر موہانی