11 اشعار

راز توحید تو کثرت میں چھپا ہے اے دوست

Raaz-e-tauheed to kasrat mein chhupa hai ae dost

راز توحید تو کثرت میں چھپا ہے اے دوست

«راز توحید تو کثرت میں چھپا ہے اے دوست» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

راز توحید تو کثرت میں چھپا ہے اے دوستسیکڑوں جلوے ہیں اک جلوہ نما ہے اے دوست

اک زمانہ یہاں دیوانہ بنا ہے اے دوستتیرے کوچے کی ہوا ہوش ربا ہے اے دوست

عشرت حاصل عصیاں میں کہاں وہ لذتبخدا ترک گنہ میں جو مزا ہے اے دوست

سرمۂ طور ہو یا خاک شفا یا اکسیرسب سے بڑھ کر تری خاک کف پا ہے اے دوست

کیا کریں جان نہ دے دیں جو محبت والےہر ادا حسن کی پیغام قضا ہے اے دوست

تو نے کس ایسی نگاہوں سے ازل میں دیکھاآج تک خوف سے دل کانپ رہا ہے اے دوست

قائل حشر و قیامت تو سبھی ہیں لیکنتیرے وعدے کا یقیں کس کو ہوا ہے اے دوست

جانتا کون نہیں عہد وفا کو تیرےوہ بھی منجملۂ انداز جفا ہے اے دوست

اس زمیں پر کیا کرتے ہیں فرشتے سجدےتیرے کشتوں کا جہاں خون بہا ہے اے دوست

غم ترے جلووں میں ہو جاتی ہیں نظریں ان کیدیکھنے والوں سے تیرے یہ سنا ہے اے دوست

تاج خسرو سے غرض اس کو نہ تخت جم سےافقرؔ خاک نشیں تیرا گدا ہے اے دوست

— افقر موہانی