5 اشعار

سر کو چاہا بھی اٹھانا تو اٹھایا نہ گیا

Sar ko chaha bhi uthana to uthaya na gaya

سر کو چاہا بھی اٹھانا تو اٹھایا نہ گیا

«سر کو چاہا بھی اٹھانا تو اٹھایا نہ گیا» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

سر کو چاہا بھی اٹھانا تو اٹھایا نہ گیاکر کے سجدہ ترا پھر ہوش میں آیا نہ گیا

جلوۂ طور کا ہو دیکھنے والا بے خودیہ بھی اک راز تھا اب تک جو بتایا نہ گیا

تو نے کس ناز سے دیکھا تھا ازل میں ان کوآج تک ہوش میں دیوانوں سے آیا نہ گیا

تا دم زیست نہ آیا مرے نامہ کا جوابنامہ بر مجھ کو برابر ہے گیا یا نہ گیا

وہ مٹائیں گے بھلا کیا مری ہستی افقرؔدہر میں نقش وفا جن سے مٹایا نہ گیا

— افقر موہانی