11 اشعار

مری ہستی کا جلووں میں ترے روپوش ہو جانا

Meri hasti ka jalwon mein tere rooposh ho jana

مری ہستی کا جلووں میں ترے روپوش ہو جانا

«مری ہستی کا جلووں میں ترے روپوش ہو جانا» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 30 سیکنڈ ہے۔

مری ہستی کا جلووں میں ترے روپوش ہو جانایہیں تو ہے بس اک قطرہ کا دریا نوش ہو جانا

تمہیں کیا غم مبارک ہو تمہیں روپوش ہو جاناہوا جاتا ہے افسانہ مرا بے ہوش ہو جانا

وہی سمجھے ہیں کچھ کچھ زندگی و موت کا حاصلجنہیں آتا ہے جیتے جی کفن بر دوش ہو جانا

یہ اچھی ابتدا کی آپ نے اے حضرت موسیٰدم دیدار اب لازم ہوا بے ہوش ہو جانا

زمیں کا ذرہ ذرہ آئنہ دار حقیقت ہےکہیں اپنے ہی جلووں میں نہ تم روپوش ہو جانا

بساط دہر میں غافل بھلا جینے کا حاصل کیاکہ مرنا بھی جہاں پر ہو وبال دوش ہو جانا

وہ سر زانو پہ ان کے وہ ہوا زلف معنبر کیہمیں تو ہوش سے بڑھ کر ہے یوں بے ہوش ہو جانا

نظر آتے ہیں اب جلوے ہی جلوے ہر طرف مجھ کودلیل ہوشیاری تھا مرا بے ہوش ہو جانا

وہ اٹھنا جلوہ گاہ ناز کے پردے کا نظروں سےوہ میرا دیکھتے ہی دیکھتے بے ہوش ہو جانا

کہیں ناکام رہ جائے نہ ذوق جستجو اپناعدم سے بھی خیال یار ہم آغوش ہو جانا

گزر جا منزل احساس کی حد سے بھی اے افقرؔکمال بے خودی ہے بے نیاز ہوش ہو جانا

— افقر موہانی