17 اشعار

نزع کی ہچکی مریض ہجر کی دم ساز ہے

Naza ki hichki mareez-e-hijr ki dam-saaz hai

نزع کی ہچکی مریض ہجر کی دم ساز ہے

«نزع کی ہچکی مریض ہجر کی دم ساز ہے» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

نزع کی ہچکی مریض ہجر کی دم ساز ہےسننے والے غور سے سن آخری آواز ہے

لاکھ اے زاہد نشاط جاں ارم کا راز ہےجلوہ گاہ ناز پھر بھی جلوہ گاہ ناز ہے

کون جان آرزو محو خرام ناز ہےذرہ ذرہ میرے دل کا فرش پا انداز ہے

مختلف نغمے ہیں لیکن ایک ہی آواز ہےہستئ دل ایک نیرنگ طلسم ساز ہے

بے نیاز جذب الفت انتقام عشق دیکھدل تھا پہلے بزم میں اب دل ہی بزم ناز ہے

دیکھ کر پامال کرنا میری تربت کی زمیںقبر ہے ظالم مگر قبر شہید ناز ہے

جن کو ارماں ہوگا ان کو ہوگا ارماں دید کاذرہ ذرہ اپنے دل کا جلوہ گاہ ناز ہے

زندگی اس کی ہے موت اس کی ہے تربت اس کی ہےجس کی خاک دل پہ وہ محو خرام ناز ہے

اب کہاں وہ نغمۂ دل کی صدائے جاں نوازبولنے والا جو پردہ تھا وہی بے ساز ہے

فکر آزادی کو اے صیاد آزادی سمجھیہ تڑپنا دل کا بھی منجملۂ پرواز ہے

اے مرے ٹوٹے ہوئے دل کی صدائے منتشردیکھ جو ہے جس جگہ پر گوش بر آواز ہے

اس سے پہلے دل لیا تھا تم نے جس انداز سےآج بھی کیا بات کرنے کا وہی انداز ہے

عمر گزری موت آئی بن کے انجام حیاتاور ابھی تک عشق کا آغاز ہی آغاز ہے

جان برباد تمنا دل خراب آرزوہر نفس راہ طلب میں نغمۂ بے ساز ہے

آشیاں والے خدارا کر نہ ذکر آشیاںپتا پتا گلستاں کا گوش بر آواز ہے

نغمۂ روز ازل تیرے ترنم کے نثارسننے والا آج بھی محو صدائے ساز ہے

درد کو رکھتے ہیں سینہ میں چھپائے ہر گھڑیکیا کہیں افقرؔ کسی سے دل کا اپنے راز ہے

— افقر موہانی