15 اشعار

ترے جلوؤں میں گم ہو کر نشاں باقی نہیں رہتا

Tere jalwon mein gum ho kar nishaan baaqi nahin rehta

ترے جلوؤں میں گم ہو کر نشاں باقی نہیں رہتا

«ترے جلوؤں میں گم ہو کر نشاں باقی نہیں رہتا» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی» میں 20 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

ترے جلوؤں میں گم ہو کر نشاں باقی نہیں رہتانشاں کیسا کہ ہستی کا گماں باقی نہیں رہتا

محبت میں نظام جسم و جاں باقی نہیں رہتایہ وہ منزل ہے جس میں کارواں باقی نہیں رہتا

کہیں صیاد کیا ہم اس چمن کے رہنے والے ہیںبہاروں میں گلستاں تک جہاں باقی نہیں رہتا

مٹا دے اپنی ہستی امتحاں گاہ محبت میںکہ اس کے باد کوئی امتحاں باقی نہیں رہتا

تجلی تیری جب ہوتی ہے محو جلوہ آرائیتو پھر جلووں سے کوئی آستاں باقی نہیں رہتا

وہاں پہنچا دیا سوز غم پنہاں نے اب ہم کوکہ غم منجملۂ عمر رواں باقی نہیں رہتا

اب اس منزل پہ لے آئی ہے میری بے خودی مجھ کوجہاں فرق مکاں و لا مکاں باقی نہیں رہتا

مرے آئینۂ دل کی حقیقت پوچھنے والےیہاں آ کر کوئی راز نہاں باقی نہیں رہتا

وہ دنیا ہو لحد ہو یا قیامت ہو کہ محشر ہوغم اعمال کا رونا کہاں باقی نہیں رہتا

صدا آتی ہے راتوں کو یہی گور غریباں سےچراغ سرحد منزل یہاں باقی نہیں رہتا

بھلا دیتی ہے تیری یاد یاد ماسوا دل سےترے ہوتے خیال دیگراں باقی نہیں رہتا

جبین شوق جھک بھی جا کہاں کا پاس رسوائیکہ پھر قرب جبین و آستاں باقی نہیں رہتا

مجھے حیرت انہیں شکوہ جبین شوق سرگرداںکہ سنگ در پہ سجدوں کا نشاں باقی نہیں رہتا

جہاں انسانیت کا خون ہو جذبات کی رو میںوہاں معیار تخلیق جہاں باقی نہیں رہتا

شہیدان محبت کی عجب دنیا ہے اے افقرؔجہاں ذکر حیات جاوداں باقی نہیں رہتا

— افقر موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں