7 اشعار

رکھی ہے حسن پہ بنیاد عاشقی میں نے

Rakhi hai husn pe bunyaad-e-aashiqi main ne

رکھی ہے حسن پہ بنیاد عاشقی میں نے

«رکھی ہے حسن پہ بنیاد عاشقی میں نے» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

رکھی ہے حسن پہ بنیاد عاشقی میں نےخوشی سے موت کو دے دی ہے زندگی میں نے

کیا کبھی نہ سوا تیرے غیر کو سجدہخراب شرک نہ کی رسم بندگی میں نے

خدائی مل گئی سرکار عشق سے مجھ کوخودی کے بدلے طلب کی جو بے خودی میں نے

چھلکتا ساغر مے پی کے چشم ساقی سےسکھائی سارے زمانہ کو مے کشی میں نے

بہار گور غریباں نہ کیوں لحد ہو مریکہ جمع کی ہے زمانہ کی بیکسی میں نے

بدل کے رنگ ڈرائے نہ آسماں مجھ کومزاج یار کی دیکھی ہے برہمی میں نے

بتا کے عیب و ہنر شعر گوئی کے افقرؔسکھائی اپنے حریفوں کو شاعری میں نے

— افقر موہانی