12 اشعار

شوق دل حسرت دیدار سے آگے نہ بڑھا

Shauq-e-dil hasrat-e-deedaar se aage na badha

شوق دل حسرت دیدار سے آگے نہ بڑھا

«شوق دل حسرت دیدار سے آگے نہ بڑھا» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی» میں 20 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 23 سیکنڈ ہے۔

شوق دل حسرت دیدار سے آگے نہ بڑھامیں کبھی جلوہ گہہ یار سے آگے نہ بڑھا

محرم راز حقیقت اسے سمجھیں کیونکرعشق میں جو رسن و دار سے آگے نہ بڑھا

ننگ ہے عشق میں راحت طلبی اے غافلتوسن عمر غم یار سے آگے نہ بڑھا

خلد کو ہم بھی سمجھتے ہیں مگر اے واعظخلد کو کوچۂ دل دار سے آگے نہ بڑھا

میں نے کیا کیا نہ کیا عہد وفا پر اصراروہ فقط وعدۂ ہر بار سے آگے نہ بڑھا

بندشیں کعبہ کی قبلہ کا تعین بے کارمیرا سجدہ قدم یار سے آگے نہ بڑھا

حشر میں اور بھی تھے مجرم الفت لیکنکوئی بھی تیرے گنہ گار سے آگے نہ بڑھا

زندگی اپنی تھی اک وقفۂ تسکین نفسجو کبھی وقت کی رفتار سے آگے نہ بڑھا

کام نشتر کا ہے پیوست رگ جاں ہوناوہ بھی تو ابروئے خم دار سے آگے نہ بڑھا

کس قدر جوش پہ تھی ساحل و طوفاں کی کششمیرا بیڑا کبھی منجدھار سے آگے نہ بڑھا

رہ گئے دو ہی قدم جل کے ہزاروں فتنےکوئی فتنہ تری رفتار سے آگے نہ بڑھا

ایک دو جام میں سب ہو گئے بے خود ساقیکوئی بھی افقرؔ مے خوار سے آگے نہ بڑھا

— افقر موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں