9 اشعار

وہ امنگیں نہیں اب وہ دل ناشاد نہیں

Woh umangen nahin ab woh dil-e-nashad nahin

وہ امنگیں نہیں اب وہ دل ناشاد نہیں

«وہ امنگیں نہیں اب وہ دل ناشاد نہیں» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

وہ امنگیں نہیں اب وہ دل ناشاد نہیںواقعہ خواب سا کچھ یاد ہے کچھ یاد نہیں

کون سے ذرہ پہ دنیائے غم آباد نہیںدل برباد ہمارا دل برباد نہیں

وہ ہو دنیا کہ لحد یا کہ ہو روز محشرمبتلائے غم جاناں کہیں آزاد نہیں

تو جو سرگرم تماشا ہو دم مشق ستمکس کو پھر شوق شہادت ستم ایجاد نہیں

پاس ہے ضبط محبت کا ستم گر ورنہاک نفس بھی مرا بیگانۂ فریاد نہیں

اب تو ہر سمت نظر آتے ہیں جلوے جلوےبے خودی میں کوئی پردہ دل ناشاد نہیں

کاوش دام و قفس میرے لیے تھی گویاورنہ گلشن ہے وہی آج بھی صیاد نہیں

تابش حسن سے اک بے خودی چھائی پہلےبعد اس کے ہوا پھر کیا یہ مجھے یاد نہیں

مر کے افقرؔ یہاں ملتی ہے حیات جاویدآستاں یار کا ہے جنت شداد نہیں

— افقر موہانی