12 اشعار

اس کی نہیں خدائی کہ اس کا خدا نہیں

Is ki nahin Khudai ke is ka Khuda nahin

اس کی نہیں خدائی کہ اس کا خدا نہیں

«اس کی نہیں خدائی کہ اس کا خدا نہیں» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی» میں 20 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 44 سیکنڈ ہے۔

اس کی نہیں خدائی کہ اس کا خدا نہیںتم جس کو مل گئے اسے پھر کیا ملا نہیں

سجدہ سے سر اٹھانے کو جی چاہتا نہیںاب یا تو ہم نہیں در دل دار یا نہیں

اک پیکر خیال کی اللہ رے محویتمیں خود بھی اب نگاہ میں اپنی رہا نہیں

محشر نثار اس نگۂ شرمسار پرکہنا پڑا خدا سے یہ قاتل مرا نہیں

وہ تنکے جب اٹھائے جلا ڈالے برق نےگلشن میں آشیاں کبھی اپنا بنا نہیں

حد نگاہ کب تری رفعت کو پا سکےجلوہ ترا مقید ارض و سما نہیں

درکار ہے نگاہ کرم ورنہ اے کریممیرے لیے خزانۂ قدرت میں کیا نہیں

نظریں جدا جدا ہیں خیالات مختلفمیری نظر سے کوئی نہیں دیکھتا نہیں

اک وقفۂ حیات ہے دنیا ہے جس کا ناماتنی سی کائنات کو میں چاہتا نہیں

اس اعتنا کی داد بھی اے بے نیاز خلقمیرا سر نیاز کہیں پر جھکا نہیں

اندازۂ جمال بقدر نگاہ ہےچشم کلیم جلوہ طراز ادا نہیں

تو ہی بتا کہ جائے کہاں تجھ کو چھوڑ کرافقرؔ ترا گدا ہے کسی کا گدا نہیں

— افقر موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں