10 اشعار

یہی نہیں کہ یوںہی گرد اڑاتا رہتا ہوں

Yehi nahin ke yun hi gard udata rahta hoon

یہی نہیں کہ یوںہی گرد اڑاتا رہتا ہوںہوا ہوں اور ہیولے بناتا رہتا ہوں

نظر میں نشہ ہے ان دیکھے منظروں کا بہتسو چلتا رہتا ہوں اور لڑکھڑاتا رہتا ہوں

یہ کیسی دھن میں تھرکتا ہوں تھرتھراتا ہوایہ کون گیت ہے جو گنگناتا رہتا ہوں

میں وہ شجر ہوں جو ماحول کا نہیں پابندہوا چلے نہ چلے سرسراتا رہتا ہوں

جواز مانگیے مت مجھ سے میرے ہونے کایہی بہت ہے جو ہوتا ہواتا رہتا ہوں

پڑا ہوا ہوں پلندہ سا اپنے سامنے میںاور اس پلندے کے پرزے اڑاتا رہتا ہوں

کھلے ہوئے ہیں کئی زخم سینہ و سر میںسو مسکراتا ہوں ہنستا ہنساتا رہتا ہوں

کسی کے دل میں تو اب میری یاد کیا ہوگیبس اپنے آپ کو ہی یاد آتا رہتا ہوں

گئے وہ دن کہ زمانے سے رسم و راہ نہ تھیاب اس طرف بھی بہت آتا جاتا رہتا ہوں

کسی کے نام کی ڈفلی بجا کے دیکھ لیااب اپنے نام کا ڈنکا بجاتا رہتا ہوں

— آفتاب حسین