5 اشعار

کمی رکھتا ہوں اپنے کام کی تکمیل میں

Kami rakhta hoon apne kaam ki takmeel mein

کمی رکھتا ہوں اپنے کام کی تکمیل میںمبادا آپ کھو جاؤں کہیں تمثیل میں

بہت شدت رہی پہلے کنار چشم تکامڈ آیا ہے اب وہ سیل رود نیل میں

مکان جاں لرزتا ہے ہوائے ہجر سےچراغ یاد کو رکھیں گے کس قندیل میں

یہ گھڑیاں آہ پہ مجھ سے گریزاں ہیں اگرتو پھر میں کیوں رہوں گا وقت کی تحویل میں

عذاب برق و باراں تھا اندھیری رات تھیرواں تھیں کشتیاں کس شان سے اس جھیل میں

— آفتاب حسین