6 اشعار

اسی طرح کے شب و روز ہیں وہی دنیا

Isi tarah ke shab-o-roz hain wohi duniya

اسی طرح کے شب و روز ہیں وہی دنیاپرانی خاک پہ تعمیر ہے نئی دنیا

میں اپنے آپ میں گم تھا مجھے خبر نہ ہوئیگزر رہی تھی مجھے روندتی ہوئی دنیا

ہر آدمی کو یہ دنیا بدل کے رکھ دے گیبدل سکا نہ اگر اب بھی آدمی دنیا

نئی ہوا کو مدد کے لیے پکارتی ہےخود اپنی آگ میں جلتی ہوئی نئی دنیا

میں جس حوالے سے دنیا پہ غور کرتا ہوںاسی طرح سے کبھی کاش سوچتی دنیا

میں اپنے اصل کی جانب رواں دواں ہوں اوربلا رہی ہے مسلسل مجھے مری دنیا

— آفتاب حسین