7 اشعار

عاشقی میں میرؔ جیسے خواب مت دیکھا کرو

Aashiqi mein Mir jaise khwab mat dekha karo

عاشقی میں میرؔ جیسے خواب مت دیکھا کرو

«عاشقی میں میرؔ جیسے خواب مت دیکھا کرو» احمد فراز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

عاشقی میں میرؔ جیسے خواب مت دیکھا کروباؤلے ہو جاؤ گے مہتاب مت دیکھا کرو

جستہ جستہ پڑھ لیا کرنا مضامین وفاپر کتاب عشق کا ہر باب مت دیکھا کرو

اس تماشے میں الٹ جاتی ہیں اکثر کشتیاںڈوبنے والوں کو زیر آب مت دیکھا کرو

مے کدے میں کیا تکلف مے کشی میں کیا حجاببزم ساقی میں ادب آداب مت دیکھا کرو

ہم سے درویشوں کے گھر آؤ تو یاروں کی طرحہر جگہ خس خانہ و برفاب مت دیکھا کرو

مانگے تانگے کی قبائیں دیر تک رہتی نہیںیار لوگوں کے لقب القاب مت دیکھا کرو

تشنگی میں لب بھگو لینا بھی کافی ہے فرازؔجام میں صہبا ہے یا زہراب مت دیکھا کرو

— احمد فراز