6 اشعار

ایسے چپ ہیں کہ یہ منزل بھی کڑی ہو جیسے

Aise chup hain ke yeh manzil bhi kadi ho jaise

ایسے چپ ہیں کہ یہ منزل بھی کڑی ہو جیسے

«ایسے چپ ہیں کہ یہ منزل بھی کڑی ہو جیسے» احمد فراز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

ایسے چپ ہیں کہ یہ منزل بھی کڑی ہو جیسےتیرا ملنا بھی جدائی کی گھڑی ہو جیسے

اپنے ہی سائے سے ہر گام لرز جاتا ہوںراستے میں کوئی دیوار کھڑی ہو جیسے

کتنے ناداں ہیں ترے بھولنے والے کہ تجھےیاد کرنے کے لیے عمر پڑی ہو جیسے

تیرے ماتھے کی شکن پہلے بھی دیکھی تھی مگریہ گرہ اب کے مرے دل میں پڑی ہو جیسے

منزلیں دور بھی ہیں منزلیں نزدیک بھی ہیںاپنے ہی پاؤں میں زنجیر پڑی ہو جیسے

آج دل کھول کے روئے ہیں تو یوں خوش ہیں فرازؔچند لمحوں کی یہ راحت بھی بڑی ہو جیسے

— احمد فراز