7 اشعار

عجب جنون مسافت میں گھر سے نکلا تھا

Ajab junoon musafat mein ghar se nikla tha

عجب جنون مسافت میں گھر سے نکلا تھا

«عجب جنون مسافت میں گھر سے نکلا تھا» احمد فراز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

عجب جنون مسافت میں گھر سے نکلا تھاخبر نہیں ہے کہ سورج کدھر سے نکلا تھا

یہ کون پھر سے انہیں راستوں میں چھوڑ گیاابھی ابھی تو عذاب سفر سے نکلا تھا

یہ تیر دل میں مگر بے سبب نہیں اتراکوئی تو حرف لب چارہ گر سے نکلا تھا

یہ اب جو آگ بنا شہر شہر پھیلا ہےیہی دھواں مرے دیوار و در سے نکلا تھا

میں رات ٹوٹ کے رویا تو چین سے سویاکہ دل کا زہر مری چشم تر سے نکلا تھا

یہ اب جو سر ہیں خمیدہ کلاہ کی خاطریہ عیب بھی تو ہم اہل ہنر سے نکلا تھا

وہ قیس اب جسے مجنوں پکارتے ہیں فرازؔتری طرح کوئی دیوانہ گھر سے نکلا تھا

— احمد فراز