6 اشعار

ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تو

Hui hai sham to aankhon mein bas gaya phir tu

ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تو

«ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تو» احمد فراز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر توکہاں گیا ہے مرے شہر کے مسافر تو

مری مثال کہ اک نخل خشک صحرا ہوںترا خیال کہ شاخ چمن کا طائر تو

میں جانتا ہوں کہ دنیا تجھے بدل دے گیمیں مانتا ہوں کہ ایسا نہیں بظاہر تو

ہنسی خوشی سے بچھڑ جا اگر بچھڑنا ہےیہ ہر مقام پہ کیا سوچتا ہے آخر تو

فضا اداس ہے رت مضمحل ہے میں چپ ہوںجو ہو سکے تو چلا آ کسی کی خاطر تو

فرازؔ تو نے اسے مشکلوں میں ڈال دیازمانہ صاحب زر اور صرف شاعر تو

— احمد فراز