8 اشعار

اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی

Is qadar musalsal thin shiddaten judai ki

اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی

«اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی» احمد فراز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کیآج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی

ورنہ اب تلک یوں تھا خواہشوں کی بارش میںیا تو ٹوٹ کر رویا یا غزل سرائی کی

تج دیا تھا کل جن کو ہم نے تیری چاہت میںآج ان سے مجبوراً تازہ آشنائی کی

ہو چلا تھا جب مجھ کو اختلاف اپنے سےتو نے کس گھڑی ظالم میری ہم نوائی کی

ترک کر چکے قاصد کوئے نامراداں کوکون اب خبر لاوے شہر آشنائی کی

طنز و طعنہ و تہمت سب ہنر ہیں ناصح کےآپ سے کوئی پوچھے ہم نے کیا برائی کی

پھر قفس میں شور اٹھا قیدیوں کا اور صیاددیکھنا اڑا دے گا پھر خبر رہائی کی

دکھ ہوا جب اس در پر کل فرازؔ کو دیکھالاکھ عیب تھے اس میں خو نہ تھی گدائی کی

— احمد فراز