9 اشعار

اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں

Is se pehle ke bewafa ho jaen

اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں

«اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں» احمد فراز کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیںکیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں

تو بھی ہیرے سے بن گیا پتھرہم بھی کل جانے کیا سے کیا ہو جائیں

تو کہ یکتا تھا بے شمار ہواہم بھی ٹوٹیں تو جا بجا ہو جائیں

ہم بھی مجبوریوں کا عذر کریںپھر کہیں اور مبتلا ہو جائیں

ہم اگر منزلیں نہ بن پائےمنزلوں تک کا راستا ہو جائیں

دیر سے سوچ میں ہیں پروانےراکھ ہو جائیں یا ہوا ہو جائیں

عشق بھی کھیل ہے نصیبوں کاخاک ہو جائیں کیمیا ہو جائیں

اب کے گر تو ملے تو ہم تجھ سےایسے لپٹیں تری قبا ہو جائیں

بندگی ہم نے چھوڑ دی ہے فرازؔکیا کریں لوگ جب خدا ہو جائیں

— احمد فراز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں