10 اشعار

جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو

Jis simt bhi dekhun nazar aata hai ke tum ho

جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو

«جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو» احمد فراز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 27 سیکنڈ ہے۔

جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہواے جان جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو

یہ خواب ہے خوشبو ہے کہ جھونکا ہے کہ پل ہےیہ دھند ہے بادل ہے کہ سایا ہے کہ تم ہو

اس دید کی ساعت میں کئی رنگ ہیں لرزاںمیں ہوں کہ کوئی اور ہے دنیا ہے کہ تم ہو

دیکھو یہ کسی اور کی آنکھیں ہیں کہ میریدیکھوں یہ کسی اور کا چہرہ ہے کہ تم ہو

یہ عمر گریزاں کہیں ٹھہرے تو یہ جانوںہر سانس میں مجھ کو یہی لگتا ہے کہ تم ہو

ہر بزم میں موضوع سخن دل زدگاں کااب کون ہے شیریں ہے کہ لیلیٰ ہے کہ تم ہو

اک درد کا پھیلا ہوا صحرا ہے کہ میں ہوںاک موج میں آیا ہوا دریا ہے کہ تم ہو

وہ وقت نہ آئے کہ دل زار بھی سوچےاس شہر میں تنہا کوئی ہم سا ہے کہ تم ہو

آباد ہم آشفتہ سروں سے نہیں مقتلیہ رسم ابھی شہر میں زندہ ہے کہ تم ہو

اے جان فرازؔ اتنی بھی توفیق کسے تھیہم کو غم ہستی بھی گوارا ہے کہ تم ہو

— احمد فراز