11 اشعار

جز ترے کوئی بھی دن رات نہ جانے میرے

Juz tere koi bhi din raat na jaane mere

جز ترے کوئی بھی دن رات نہ جانے میرے

«جز ترے کوئی بھی دن رات نہ جانے میرے» احمد فراز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 38 سیکنڈ ہے۔

جز ترے کوئی بھی دن رات نہ جانے میرےتو کہاں ہے مگر اے دوست پرانے میرے

تو بھی خوشبو ہے مگر میرا تجسس بے کاربرگ آوارہ کی مانند ٹھکانے میرے

شمع کی لو تھی کہ وہ تو تھا مگر ہجر کی راتدیر تک روتا رہا کوئی سرہانے میرے

خلق کی بے خبری ہے کہ مری رسوائیلوگ مجھ کو ہی سناتے ہیں فسانے میرے

لٹ کے بھی خوش ہوں کہ اشکوں سے بھرا ہے دامندیکھ غارت گر دل یہ بھی خزانے میرے

آج اک اور برس بیت گیا اس کے بغیرجس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے

کاش تو بھی میری آواز کہیں سنتا ہوپھر پکارا ہے تجھے دل کی صدا نے میرے

کاش تو بھی کبھی آ جائے مسیحائی کولوگ آتے ہیں بہت دل کو دکھانے میرے

کاش اوروں کی طرح میں بھی کبھی کہہ سکتابات سن لی ہے مری آج خدا نے میرے

تو ہے کس حال میں اے زود فراموش مرےمجھ کو تو چھین لیا عہد وفا نے میرے

چارہ گر یوں تو بہت ہیں مگر اے جان فرازؔجز ترے اور کوئی زخم نہ جانے میرے

— احمد فراز