6 اشعار

کیا ایسے کم سخن سے کوئی گفتگو کرے

Kya aise kam-sukhan se koi guftugu kare

کیا ایسے کم سخن سے کوئی گفتگو کرے

«کیا ایسے کم سخن سے کوئی گفتگو کرے» احمد فراز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

کیا ایسے کم سخن سے کوئی گفتگو کرےجو مستقل سکوت سے دل کو لہو کرے

اب تو ہمیں بھی ترک مراسم کا دکھ نہیںپر دل یہ چاہتا ہے کہ آغاز تو کرے

تیرے بغیر بھی تو غنیمت ہے زندگیخود کو گنوا کے کون تری جستجو کرے

اب تو یہ آرزو ہے کہ وہ زخم کھائیےتا زندگی یہ دل نہ کوئی آرزو کرے

تجھ کو بھلا کے دل ہے وہ شرمندۂ نظراب کوئی حادثہ ہی ترے روبرو کرے

چپ چاپ اپنی آگ میں جلتے رہو فرازؔدنیا تو عرض حال سے بے آبرو کرے

— احمد فراز