6 اشعار

میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا

Main to maqtal mein bhi qismat ka Sikandar nikla

میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا

«میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا» احمد فراز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلاقرعۂ فال مرے نام کا اکثر نکلا

تھا جنہیں زعم وہ دریا بھی مجھی میں ڈوبےمیں کہ صحرا نظر آتا تھا سمندر نکلا

میں نے اس جان بہاراں کو بہت یاد کیاجب کوئی پھول مری شاخ ہنر پر نکلا

شہر والوں کی محبت کا میں قائل ہوں مگرمیں نے جس ہاتھ کو چوما وہی خنجر نکلا

تو یہیں ہار گیا ہے مرے بزدل دشمنمجھ سے تنہا کے مقابل ترا لشکر نکلا

میں کہ صحرائے محبت کا مسافر تھا فرازؔایک جھونکا تھا کہ خوشبو کے سفر پر نکلا

— احمد فراز