6 اشعار

یہ سوچ کر کہ غم کے خریدار آ گئے

Yeh soch kar ke gham ke khareedar aa gaye

یہ سوچ کر کہ غم کے خریدار آ گئے

«یہ سوچ کر کہ غم کے خریدار آ گئے» احمد فراز کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

یہ سوچ کر کہ غم کے خریدار آ گئےہم خواب بیچنے سرِ بازار آ گئے

یوسف نہ تھے مگر سرِ بازار آ گئےخوش فہمیاں یہ تھیں کہ خریدار آ گئے

اب دل میں حوصلہ نہ سکت بازوؤں میں ہےاب کہ مقابلے پہ میرے یار آ گئے

آواز د کے چھپ گئی ہر بار زندگیہم ایسے سادہ دل تھے کہ ہر بار آ گئے

ہم کج ادا چراغ کہ جب بھی ہوا چلیتاکوں کو چھوڑ کر سرِ دیوار آ گئے

سورج کی روشنی پہ جنہیں ناز تھا فرازوہ بھی تو زیرِ سایہ دیوار آ گئے

— احمد فراز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں