پہلے فلک سے فرش پہ پھینکا گیا مجھے
پہلے فلک سے فرش پہ پھینکا گیا مجھےپھر مجھ سے روشناس کرایا گیا مجھے
میری صدا پہ کب مجھے آواز دی گئیاک اجنبی صدا پہ پکارا گیا مجھے
بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی
مہمان شاعر: محسن زیدی
پہلے فلک سے فرش پہ پھینکا گیا مجھےپھر مجھ سے روشناس کرایا گیا مجھے
میری صدا پہ کب مجھے آواز دی گئیاک اجنبی صدا پہ پکارا گیا مجھے
کون اس تیغ ستم گر سے بچاجو بچا اپنے مقدر سے بچا
صاف انکار ہی بہتر ہے کہ میںزحمت عرض مکرر سے بچا
یوں سمجھ لو کہ بجز نام خدا کچھ نہ رہاجل کے اس آگ میں سب خاک ہوا کچھ نہ رہا
کس کا سر کس کی ردا کس کا مکاں ڈھونڈتے ہوقتل و غارت میں تو کوئی نہ بچا کچھ نہ رہا
اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیںکیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں
تو بھی ہیرے سے بن گیا پتھرہم بھی کل جانے کیا سے کیا ہو جائیں
یہ سوچ کر کہ غم کے خریدار آ گئےہم خواب بیچنے سرِ بازار آ گئے
یوسف نہ تھے مگر سرِ بازار آ گئےخوش فہمیاں یہ تھیں کہ خریدار آ گئے
روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیںدر سے اٹھتے ہیں تو دیوار سے لگ جاتے ہیں
عشق آغاز میں ہلکی سی خلش رکھتا ہےبعد میں سیکڑوں آزار سے لگ جاتے ہیں