9 اشعار

تیرے قریب آ کے بڑی الجھنوں میں ہوں

Tere qareeb aa ke badi uljhanon mein hoon

تیرے قریب آ کے بڑی الجھنوں میں ہوں

«تیرے قریب آ کے بڑی الجھنوں میں ہوں» احمد فراز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

تیرے قریب آ کے بڑی الجھنوں میں ہوںمیں دشمنوں میں ہوں کہ ترے دوستوں میں ہوں

مجھ سے گریز پا ہے تو ہر راستہ بدلمیں سنگ راہ ہوں تو سبھی راستوں میں ہوں

تو آ چکا ہے سطح پہ کب سے خبر نہیںبے درد میں ابھی انہیں گہرائیوں میں ہوں

اے یار خوش دیار تجھے کیا خبر کہ میںکب سے اداسیوں کے گھنے جنگلوں میں ہوں

تو لوٹ کر بھی اہل تمنا کو خوش نہیںیاں لٹ کے بھی وفا کے انہی قافلوں میں ہوں

بدلا نہ میرے بعد بھی موضوع گفتگومیں جا چکا ہوں پھر بھی تری محفلوں میں ہوں

مجھ سے بچھڑ کے تو بھی تو روئے گا عمر بھریہ سوچ لے کہ میں بھی تری خواہشوں میں ہوں

تو ہنس رہا ہے مجھ پہ مرا حال دیکھ کراور پھر بھی میں شریک ترے قہقہوں میں ہوں

خود ہی مثال لالۂ صحرا لہو لہواور خود فرازؔ اپنے تماشائیوں میں ہوں

— احمد فراز