9 اشعار

تیری باتیں ہی سنانے آئے

Teri baaten hi sunane aaye

تیری باتیں ہی سنانے آئے

«تیری باتیں ہی سنانے آئے» احمد فراز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

تیری باتیں ہی سنانے آئےدوست بھی دل ہی دکھانے آئے

پھول کھلتے ہیں تو ہم سوچتے ہیںتیرے آنے کے زمانے آئے

ایسی کچھ چپ سی لگی ہے جیسےہم تجھے حال سنانے آئے

عشق تنہا ہے سر منزل غمکون یہ بوجھ اٹھانے آئے

اجنبی دوست ہمیں دیکھ کہ ہمکچھ تجھے یاد دلانے آئے

دل دھڑکتا ہے سفر کے ہنگامکاش پھر کوئی بلانے آئے

اب تو رونے سے بھی دل دکھتا ہےشاید اب ہوش ٹھکانے آئے

کیا کہیں پھر کوئی بستی اجڑیلوگ کیوں جشن منانے آئے

سو رہو موت کے پہلو میں فرازؔنیند کس وقت نہ جانے آئے

— احمد فراز