8 اشعار

تجھ سے مل کر تو یہ لگتا ہے کہ اے اجنبی دوست

Tujh se mil kar to ye lagta hai ke ae ajnabi dost

تجھ سے مل کر تو یہ لگتا ہے کہ اے اجنبی دوست

«تجھ سے مل کر تو یہ لگتا ہے کہ اے اجنبی دوست» احمد فراز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

تجھ سے مل کر تو یہ لگتا ہے کہ اے اجنبی دوستتو مری پہلی محبت تھی مری آخری دوست

لوگ ہر بات کا افسانہ بنا دیتے ہیںیہ تو دنیا ہے مری جاں کئی دشمن کئی دوست

تیرے قامت سے بھی لپٹی ہے امر بیل کوئیمیری چاہت کو بھی دنیا کی نظر کھا گئی دوست

یاد آئی ہے تو پھر ٹوٹ کے یاد آئی ہےکوئی گزری ہوئی منزل کوئی بھولی ہوئی دوست

اب بھی آئے ہو تو احسان تمہارا لیکنوہ قیامت جو گزرنی تھی گزر بھی گئی دوست

تیرے لہجے کی تھکن میں ترا دل شامل ہےایسا لگتا ہے جدائی کی گھڑی آ گئی دوست

بارش سنگ کا موسم ہے مرے شہر میں توتو یہ شیشے سا بدن لے کے کہاں آ گئی دوست

میں اسے عہد شکن کیسے سمجھ لوں جس نےآخری خط میں یہ لکھا تھا فقط آپ کی دوست

— احمد فراز