9 اشعار

اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا

Us ko juda hue bhi zamana bahut hua

اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا

«اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا» احمد فراز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوااب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا

ڈھلتی نہ تھی کسی بھی جتن سے شب فراقاے مرگ ناگہاں ترا آنا بہت ہوا

ہم خلد سے نکل تو گئے ہیں پر اے خدااتنے سے واقعے کا فسانہ بہت ہوا

اب ہم ہیں اور سارے زمانے کی دشمنیاس سے ذرا سا ربط بڑھانا بہت ہوا

اب کیوں نہ زندگی پہ محبت کو وار دیںاس عاشقی میں جان سے جانا بہت ہوا

اب تک تو دل کا دل سے تعارف نہ ہو سکامانا کہ اس سے ملنا ملانا بہت ہوا

کیا کیا نہ ہم خراب ہوئے ہیں مگر یہ دلاے یاد یار تیرا ٹھکانہ بہت ہوا

کہتا تھا ناصحوں سے مرے منہ نہ آئیوپھر کیا تھا ایک ہو کا بہانہ بہت ہوا

لو پھر ترے لبوں پہ اسی بے وفا کا ذکراحمد فرازؔ تجھ سے کہا نہ بہت ہوا

— احمد فراز