8 اشعار

اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا

Us ne sukoot-e-shab mein bhi apna payam rakh diya

اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا

«اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا» احمد فراز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیاہجر کی رات بام پر ماہ تمام رکھ دیا

آمد دوست کی نوید کوئے وفا میں عام تھیمیں نے بھی اک چراغ سا دل سر شام رکھ دیا

شدت تشنگی میں بھی غیرت مے کشی رہیاس نے جو پھیر لی نظر میں نے بھی جام رکھ دیا

اس نے نظر نظر میں ہی ایسے بھلے سخن کہےمیں نے تو اس کے پاؤں میں سارا کلام رکھ دیا

دیکھو یہ میرے خواب تھے دیکھو یہ میرے زخم ہیںمیں نے تو سب حساب جاں بر سر عام رکھ دیا

اب کے بہار نے بھی کیں ایسی شرارتیں کہ بسکبک دری کی چال میں تیرا خرام رکھ دیا

جو بھی ملا اسی کا دل حلقہ بگوش یار تھااس نے تو سارے شہر کو کر کے غلام رکھ دیا

اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھےماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا

— احمد فراز