8 اشعار

وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ

Wahshaten badhti gain hijr ke azaar ke sath

وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ

«وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ» احمد فراز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھاب تو ہم بات بھی کرتے نہیں غم خوار کے ساتھ

ہم نے اک عمر بسر کی ہے غم یار کے ساتھمیرؔ دو دن نہ جئے ہجر کے آزار کے ساتھ

اب تو ہم گھر سے نکلتے ہیں تو رکھ دیتے ہیںطاق پر عزت سادات بھی دستار کے ساتھ

اس قدر خوف ہے اب شہر کی گلیوں میں کہ لوگچاپ سنتے ہیں تو لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ

ایک تو خواب لیے پھرتے ہو گلیوں گلیوںاس پہ تکرار بھی کرتے ہو خریدار کے ساتھ

شہر کا شہر ہی ناصح ہو تو کیا کیجئے گاورنہ ہم رند تو بھڑ جاتے ہیں دو چار کے ساتھ

ہم کو اس شہر میں تعمیر کا سودا ہے جہاںلوگ معمار کو چن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ

جو شرف ہم کو ملا کوچۂ جاناں سے فرازؔسوئے مقتل بھی گئے ہیں اسی پندار کے ساتھ

— احمد فراز