8 اشعار

یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی

Ye kya ke sab se bayan dil ki haalaten karni

یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی

«یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی» احمد فراز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنیفرازؔ تجھ کو نہ آئیں محبتیں کرنی

یہ قرب کیا ہے کہ تو سامنے ہے اور ہمیںشمار ابھی سے جدائی کی ساعتیں کرنی

کوئی خدا ہو کہ پتھر جسے بھی ہم چاہیںتمام عمر اسی کی عبادتیں کرنی

سب اپنے اپنے قرینے سے منتظر اس کےکسی کو شکر کسی کو شکایتیں کرنی

ہم اپنے دل سے ہی مجبور اور لوگوں کوذرا سی بات پہ برپا قیامتیں کرنی

ملیں جب ان سے تو مبہم سی گفتگو کرناپھر اپنے آپ سے سو سو وضاحتیں کرنی

یہ لوگ کیسے مگر دشمنی نباہتے ہیںہمیں تو راس نہ آئیں محبتیں کرنی

کبھی فرازؔ نئے موسموں میں رو دیناکبھی تلاش پرانی رفاقتیں کرنی

— احمد فراز