4 اشعار

اب منزل صدا سے سفر کر رہے ہیں ہم

Ab manzil sada se safar kar rahe hain hum

اب منزل صدا سے سفر کر رہے ہیں ہمیعنی دل سکوت میں گھر کر رہے ہیں ہم

کھویا ہے کچھ ضرور جو اس کی تلاش میںہر چیز کو ادھر سے ادھر کر رہے ہیں ہم

گویا زمین کم تھی تگ و تاز کے لیےپیمائش نجوم و قمر کر رہے ہیں ہم

کافی نہ تھا جمال رخ سادۂ بہارزیبائش گیاہ و شجر کر رہے ہیں ہم

— احمد مشتاق