5 اشعار

اب نہ بہل سکے گا دل اب نہ دیئے جلائیے

Ab na behal sakega dil ab na diye jalaiye

اب نہ بہل سکے گا دل اب نہ دیئے جلائیےعشق و ہوس ہیں سب فریب آپ سے کیا چھپائیے

اس نے کہا کہ یاد ہیں رنگ طلوع عشق کےمیں نے کہا کہ چھوڑیئے اب انہیں بھول جائیے

کیسے نفیس تھے مکاں صاف تھا کتنا آسماںمیں نے کہا کہ وہ سماں آج کہاں سے لائیے

کچھ تو سراغ مل سکے موسم درد ہجر کاسنگ جمال یار پر نقش کوئی بنائیے

کوئی شرر نہیں بچا پچھلے برس کی راکھ میںہم نفسان شعلہ خو آگ نئی جلائیے

— احمد مشتاق