6 اشعار

کہاں کی گونج دل ناتواں میں رہتی ہے

Kahan ki goonj dil-e-na-tawan mein rehti hai

کہاں کی گونج دل ناتواں میں رہتی ہےکہ تھرتھری سی عجب جسم و جاں میں رہتی ہے

قدم قدم پہ وہی چشم و لب وہی گیسوتمام عمر نظر امتحاں میں رہتی ہے

مزہ تو یہ ہے کہ وہ خود تو ہے نئے گھر میںاور اس کی یاد پرانے مکاں میں رہتی ہے

پتہ تو فصل گل و لالہ کا نہیں معلومسنا ہے قرب و جوار خزاں میں رہتی ہے

میں کتنا وہم کروں لیکن اک شعاع یقیںکہیں نواح دل بدگماں میں رہتی ہے

ہزار جان کھپاتا رہوں مگر پھر بھیکمی سی کچھ مرے طرز بیاں میں رہتی ہے

— احمد مشتاق