6 اشعار

چھن گئی تیری تمنا بھی تمنائی سے

Chhin gayi teri tamanna bhi tamannai se

چھن گئی تیری تمنا بھی تمنائی سےدل بہلتے ہیں کہیں حوصلہ افزائی سے

کیسا روشن تھا ترا نیند میں ڈوبا چہرہجیسے ابھرا ہو کسی خواب کی گہرائی سے

وہی آشفتہ مزاجی وہی خوشیاں وہی غمعشق کا کام لیا ہم نے شناسائی سے

نہ کبھی آنکھ بھر آئی نہ ترا نام لیابچ کے چلتے رہے ہر کوچۂ رسوائی سے

ہجر کے دم سے سلامت ہے ترے وصل کی آستر و تازہ ہے خوشی غم کی توانائی سے

کھل کے مرجھا بھی گئے فصل ملاقات کے پھولہم ہی فارغ نہ ہوئے موسم تنہائی سے

— احمد مشتاق